18/11/2025
بزنس کے تین راہنما اصول
ایک بہت بڑے تاجر گزرے ہیں حضرت عبدرالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ
انہوں نے اپنا کارو بار صرف دو کلو پنیر سے شروع کیا تھا
لیکن جب اس دنیاسے رخصت ھوے تو ان کے موٹے موٹے جو اثاثے تھے
صرف سونا جو تھا ایک ارب دس کروڑ بیس لاکھ تولے سونا تھا جیسے تفسیم کرنے کیلے جب کاٹا گیا تو لوہے کے ارے ٹوٹ گے کاٹ کاٹ کر اور ایسی ہی ہزاروں جاگیریں ہزاروں بھیڑ بکریاں اور ہزاروں اونٹ اور گھوڑے اور غلام تھے
اور ہماری طرح جمع بھی نہیں کرتے تھے
ادھر سے مال ایا تو ادھر بانٹ دیا اور ادھر سے ایا تو ادھر بانٹ دیا
یہ وہ مال تھا جو بانٹتے بانٹتے بچ گیا تھا
جب ان سے کارو بار کی ترقی کا راز پوچھا گیا تو انہوں فرمایا میں تین کام کرتا ھوں
نمبر 1میں مال ادھار نہیں خریدتا
نمبر2میں مال ادھار نہیں بیچتا
نمبر3 کل کی امید پہ مال نہیں روکتا کہ مہنگا ھو گا تو بیچوں گا اگر اج مجھے ایک روپے نفع مل رھا ھے اور یہ پکی امید ھو کہ کل بیچوں گا تو مجھے دس روپے نفع ملے گا
تو میں اچ ہی بیچوں گا کل کا انتظار نہیں کروں گا
سب سے بڑی بات اس کے باوجود دنیاں میں ہی جنت کا ٹکٹ لے گںے اور وہ بھی اپﷺ کی زبان مبارک سے
اور قیامت تک کے تاجروں کو ایک راستہ دے گے کہ تجارت میں مال کے ساتھ ساتھ جنت کیسے حاصل کرنی ھے