08/09/2022
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ بہت زیادہ مس مینجمنٹ چل رہی ہے پورے شہر کراچی میں۔اج تھوڑی دیر کو گھر سے باہر نکلی تو دیکھا ہر تھوڑے فاصلے پر کیمپ لگے یوئے ہیں امدادی مختلف تنظیموں کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اور راشن کے سامان سے بھرے ہوئے ہیں۔ساتھ ہی سڑکوں پر غربت بھی ڈیرہ جمائے نظر آئی پھٹے پرانے کپڑوں اور چپلوں میں مجبور غریب لوگ ۔
ایسا بھی تو ہے تو کہ اس راشن اور کھانے کو وہ غریب للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی ہمیں اس میں سے کچھ دے دے یہ تو غریب کو مار دینے والی بات ہوئی پوری دنیا سے امداد مل رہی ہے پیٹ تو اللہ بھر دے گا اس کا وعدہ ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہر ادارہ ،تنظیم ،سیاسی جماعت مل کر بیٹھتے ایک لائحہ عمل بناتے ایک ایک شہر کو آپس میں بانٹ لیتے یوں لوگوں کو رسوا کرکے صرف کھانے کا اہتمام نہ کرتے ایک ایک شہر کو دوبارہ بسانے اور پاوءں پر کھڑا کرنے کے لئے کوئی سیٹ اپ کرتے کہ میں سکھر شہر میں جاوءں گا اسے سارے کام دیکھوںگا ،میں خیر پور کو ،میں سانگھڑ کو،میں سوات کو اور ہر شہر کے لئے ٹیمیں بن جاتیں صرف راشن جمع کرنا پھینک پھینک کے دینا پھر چلے آنا۔یہ تو کوئی حل نہیں کراچی کی خود کی حالت خراب ہے پھر بھی جو لوگ یہاں سفید پوش ہیں بارشوں سے جن کا نقصان ہوا ہے بجلی کے بل جن کو تڑپا رہے ہیں انکو اسطرح کی چیزیں جب روڈ پر نظر آتی ہونگی تو انکے دل میں بھی خواہش جاگتی ہو گی کوئی ان کو بھی کچھ دے دے۔میں صرف اتنا کہنا چاھتی ہوں سب کا زور راشن پر ہے بحالی کے کام کو کرے گا یہ واضح نہیں اور سب ایک ہی کام کر رہے ہیں دوڑ لگی ہوئی ہے کس نے کتنے ٹرک جمع کر لئے کاش کوئی ایسا سمجھدار بندہ بھی ہوجو کہے کہ اب علاقے بانٹو اور راشن پر نہیں بحالی پر لگاوء قوم کو۔آمین
یہ میری رائے ہے جو مجھے محسوس ہوا آپ کی رائے اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے