08/04/2023
گرمئ شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
گل کھلے جاتے ہیں وہ سایہ تر تو دیکھو
ایسے ناداں بھی نا تھے جاں سے گزرنے والے
ناصحو پند گرو راہ گزر تو دیکھو
وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جاۓ گی الفت مجھ سے
اک نظر تم میرا محبوب نظر تو دیکھو
وہ جو اب چاک گریبان بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی ان کا جگر تو دیکھو
دامنِ درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو
صبح کی طرح چمکتا ہے شب غم کا افق
فیض تابندگئ دیدۂ تر تو دیکھو
فیض احمد فیض❤