12/08/2023
شہداء بابڑہ چارسدہ۔ دولسم اگست.
اس وقت یعنی 1948 میں باچا خان جیل میں تھے جبکہ خدائی خدمتگار تحریک کے رضاکار حکومت وقت( خان عبدالقیوم خان مسلم لیگ ) کے خلاف اور با چا خان کے رہائی کے لئے بابڑہ چارسدہ میں احتجاج کر رہے تھے۔
قیوم خان نے دفعہ 144 لگایا تھا کہ احتجاح کو روک سکھے احتجاج تو ہوا اور ہزاروں رضاکار بھی جمع ہوئے دوسرے طرف قیوم خان (اس وقت کے وزیر اعلی )نے پولیس کو حکم دیا کہ اس کو منتشر کردیں لوگ ذیادہ تھے منتشر کرنے کے لئے پولیس کے پاس کوئی اور اپشن نہ تھا اور قیوم خان سے اجازت لیکر Straight Firing شروع کردی۔ جس میں حکومتی عداد شمار کے مطابق 25 لوگ مر گئے جبکہ 35 زحمی ہوئے۔ لیکن دوسرے طرف مقامی لوگوں اور خدائی تحریک کے رضاکاروں کے طرف سے 600 سے بھی ذیادہ لوگوں کی تعداد بتائی تھی۔
ظلم کی بات یہ تھی کہ اس وقت قیوم خان پشاور میں ایک جلسے سے خطاب کررہے تھے اور اس نے یہ کہا کہ پولیس کے پاس مذید اسلحہ نہیں تھا ورنہ یہ قتل عام اتنا کم نہ ہوتا جبکہ دوسرے طرف سرکاری ہسپتالوں کو کہا گیا تھا کہ کوئی بھی بابڑہ کےمریضوں کا علاج نہ کریں۔
بابڑہ واقعہ اس وقت پیس ایا تھا جب قائد اعظم محمد علی جناح زندہ تھے مگر بہت بیمار تھے اور وہ زیارت بلوچستان میں تھے۔ قیوم خان کے پاس بھی ایسا کرنے کے بہت سے جواز ہونگے کہ اس نے ایسا کیوں کیا لیکن ظلم ظلم ہوتا ہے جو بھی کریں اور جس پر بھی ہو ہم اسکے خلاف ہیں۔ شکریہ