Ahsan food

Ahsan food Khalis Desi Ghee service

ہم لائے ہیں اپ کے لیے جنوبی پنجاب کا خالص دیسی گھی احسن دیسی گھیرابطہ نمبر : 03036951054
15/12/2023

ہم لائے ہیں اپ کے لیے جنوبی پنجاب کا خالص دیسی گھی احسن دیسی گھی
رابطہ نمبر :
03036951054

14/12/2023

Ahsan Desi Ghee
Best Quality. Fresh Organic Desi Ghee (Home Made).

Price: Rs.2200- per kg
Home Delivery Available Across the Pakistan.

Available in Bulk!

ہو جائے پھر سردی کا انتظام

For order contect
+92 3036951054

Desi Ghee available.We Cook Desi Ghee From Chaati Makhan. We do offer money back guarantee. We cook in neat and clean en...
12/12/2023

Desi Ghee available.

We Cook Desi Ghee From Chaati Makhan. We do offer money back guarantee. We cook in neat and clean environment.

For order: 03036951054


01/12/2022

ہمارے پاس موجود ہر قسم کا سستا مہنگا شہد سردیوں میں جم سکتا ہے۔۔ شہد کا جمنا قدرتی عمل ہے ہم اسکی قطعاً گارنٹی نہیں دیں گے ۔ شہد سخت سردی میں اپنے اندر موجود گلوکوز کی زیادہ مقدار ہونے کے کارن جمتا ہے ۔ صرف ہمارا نہیں دُنیا میں موجود مہنگے سے مہنگا شہد بھی جمتا ہے ۔ تحقیق لازم ہے
آتی سردیوں میں بہت سارے دوست یہ شکایت لیکر ہمارے پاس آتے ہیں کچھ اپنی تسلی کے لیئے پوچھتے ہیں تو کچھ جعل سازی کا الزام لگاتے ہیں ۔ ایسے احباب سے گزارش ہے کہ ہم سے خریداری مت کریں کیونکہ ہم خود پر الزام سے زیادہ کم پیسے کمانا بہتر جانتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے تاحال اپنے کاروبار کو برانڈ کی صورت کمرشل نہیں کیا محدود رکھا ہے ۔ شکریہ🌹

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! لیجیئے جناب اڑتالیس گھنٹوں میں ہی پارسل موصول ہو گیا۔۔۔ کوچنگ سینٹر میں بچوں کو پڑھا ک...
25/11/2022

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

لیجیئے جناب اڑتالیس گھنٹوں میں ہی پارسل موصول ہو گیا۔۔۔ کوچنگ سینٹر میں بچوں کو پڑھا کر فارغ ہوا تو رہائشی حصے میں آیا۔۔۔ نمازِ مغرب کے فوراً بعد گھونگھٹ اٹھانے میرا مطلب نقاب کشائی کی رسم ادا کی۔۔۔ تمام اطراف سے لپٹی ٹیپ کو اتارا اور گتے کا ڈبہ کھولا گیا۔۔۔ اندر ننھے منے سے خوبصورت پلاسٹک کے پانچ ڈبے دیسی گھی کی خوشبو لیے باہر جھانک رہے تھے۔۔!!!
پڑھی بسم اللہ اور باری باری سب کو باہر نکال لیا۔۔۔ اب اکڑ بکڑ بمبے بو، اسی نوے پورا سو کا منتر پڑھتے ہوئے جس پر اشارہ آیا اسے کھولنے کے لیے پر تول لیے۔۔۔ جناب کو شائد ہماری یہ ادا پسند نہ آئی اور کھلنے سے ہی انکار کر دیا۔۔۔ لاکھ منت سماجت کی مگر نتیجہ صفر۔۔۔ پھر ایک اور ڈبے پر پنجہ آزمائی کی۔۔۔ پھر بھی بات نہ بنی تو گرما گرم مچھلی 🐟 نوش کی اور پھر نئے جوش و جذبے سے ڈبوں کے ڈھکن (سر تن سے جدا کے مصداق) اتارنے کی ایک نئی کوشش کی۔۔۔ تنیجہ وہ ہی ڈھاک کے تین پات۔۔!!! 🥲
پھر ابا جی کا بتایا کلیہ کارگر ثابت ہوا اور ایک برتن میں پانی گرم کرکے جیسے ہی ایک ڈبے کا منہ بند لمحات کے لیے گرم گرم پانی میں ڈالا تو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ انتہائی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈھکن کھل چکا تھا۔۔۔

گھی کی خوشبو ہمیں محظوظ کر رہی تھی۔۔۔ اماں جی نے چکھ کر دیکھا اور پھر پسندیدگی کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔۔!!! ❤️
انجینئر محمد سلیم نور آپکی محبتوں کا شکریہ🙏🌹

Pure honey available
12/01/2022

Pure honey available

12/01/2022
01/01/2022

•بد گمانیاں•
اشفاق احمد کہتے ہیں کہ ہم سمن آباد میں رہتے تھے جوایک پوش علاقہ تھا ۔وہا ں ایک بیوہ خاتون آکر رہنے لگی جس کے2 بچے تھے، خاتون بہت خوبصورت ، نوجوان ماڈرن تھی اوراسکا انداز رہن سہن کچھ شوخ اور باقی لوگوں سے مختلف تھا، وہ خوبصورت اور باریک کپڑے پہنتی اور بے تحاشہ خوشبو کا استعمال کرتی ، یہاں تک کہ اگر کوئی اس کے گھر کے آگے سے گزرے تو خوشبو کی لپٹوں کی زد میں خود کو محسوس کرتا۔خاتون جاسوسی ادب سے شغف رکھتی تھی اور دن سارا جاسوسی ناول پڑھتی رہتی اور بچوں کو گھر سے نکال دیا کرتی تھی۔ اس کے گھر کچھ مشکوک لوگوں کا بھی آنا جانا تھا جس کے باعث خاتون
کے بارے لوگ اچھی رائے نہیںرکھتے تھے۔اشفاق احمد کہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں آپس میں اور جمعے کے وقت مسجد میں بھی باتیں ہوتی تھی کہ محلے میںیہ کون اور کس قسم کی خاتون آکر رہنے لگ گئی ہے۔ایک دن ایسا ہوا کہ و ہ سبزی کی دکان پر گر گئی اور تین دن بعد انتقال کر گئی اور جو لوگ اس کے گھر آتے تھے وہی اسے کفن دفن کیلئے ساتھ لے گئے۔خاتون کے انتقال کے بعد لوگوں کو پتہ چلا کہ خاتون کو کینسر کی لاعلاج بیماری لاحق تھی اور جلدی کینسر کی ایسی خوفناک صورت تھی کہ اس کے بدن سے بدبو آتی رہتی تھیجس وجہ سے اسے سپرے کرنا پڑتا تھا تاکہ لوگوں کو اس کے بدن سے آنیوالی بدبو سے تکلیف نہ ہواپنی اسی بیماری کی وجہ سے ہلکا پھلکا ، باریک لباس پہنتی تھی تاکہ زخموں کے ساتھ کپڑے الجھنے سے اسے تکلیف نہ ہو،جب تکلیف کی شدت بڑھ جاتی اور وہ درد برداشت نہ کر سکتی تو اپنے بچوں کو گھر سے باہر نکال کر دروازے بند کر لیا کرتی تھی تاکہ اس کے بچےاسے تکلیف میں دیکھ کر بے چین اور پریشان نہ ہوں۔ اس کے گھر آنے والا ایک بندہ اس کا دیور تھا ، دوسرا سکا فیملی ڈاکٹر تھا جو اس کی دیکھ بھال پر مامور تھااور تیسرا اس کا وکیل تھا ۔آخر میں اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ ہمیں تنقید کا کام اللہ پر چھوڑدینا چاہئیے جس نے اس کیلئے ایک وقت مقرر کیا ہے۔” ہم اللہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ اٹھائیں کیونکہ اس کا بوجھ اٹھانے سے بندہ کمزور ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے“۔.

Address

417
Burewala
61010

Telephone

+923036951054

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahsan food posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category