26/07/2023
Iron Lady ❤️🇵🇰
ڈاکٹر یاسمین راشد کون؟؟؟؟؟؟؟
ڈاکٹر یاسمین راشد کا نام میں نے 1985 میں سنا ،یہ بہت بڑی گائنوکالوجسٹ
ہیں لیکن انہوں نے ایک سپیشل کورس لندن سے اور امریکا سے کیا
پاکستان کی اس وقت صرف دو لیڈی ڈاکٹرز نے یہ کورس کیا ایک یاسمین راشد اور دوسری برگيڈیئر نادرہ سلطانی ،جو ایم ایچ میں تھیں
وہ ہنر یہ تھا کہ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہو اور اسکی عمر پیٹ میں
110 دن ہو جائے تو ایک ٹیکے کے ذریعے اس بچے کا خون ماں کے پیٹ سے
لیکر ٹیسٹ کر لیا جاتا کہ بچہ معذور تو نہیں یا خاص کر اسے تھیلاسمیا
تو نہیں ،اگر بچہ بیمار ہو تو اسے ضائع کر دیا جاتا ہے کیونکہ 120 دن
عمر کے بعد حمل گرانا قتل کے مترادف ہے
تو جن لوگوں کے بچے تھیلاسیمیا سے متاثر تھے انکے ٹیسٹ ہوتے ،فوجیوں
کے ٹیسٹ تو اے آيف آئی پی میں ہوتے یعنی افواج کا پیتھالوجی کا ادارہ
میں ہوتے مفت ہوتے ،لیکن پاکستان سے سب لوگ لاہور یاسمین راشد کے پاس آتے ،حاملہ جوان عورتیں ،غریب لوگ ہوٹل جا نہیں سکتے بلوچستان سندھ
بلکہ پورے پاکستان سے عورتیں آتیں ،جو پیسے والے ہوتے ان سے ڈاکٹر صاحبہ پیسے لیتیں لیکن غریب عورتوں کو مفت سیمپل لیتیں اور رہائش دیتیں
کھانا دیتیں اور ریل کا کرایہ یا بس کا کرایہ بھی دیتیں
پھر انہوں نے ایک دن کوئٹہ ایک دن کراچی ایک دن پشاور کے دورے شروع کر دیئے ،ٹیسٹ ایچ بی الیکٹروفورسز شائيد کہلاتا ہے
یاسمین راشد نے مفت علاج کیا پھر تنظیم بنائي پمفلٹ چھپوائے مفت تقسیم کیئے اور تھیلاسیمیا اگآہی مہم شروع کی
میں ایم ایچ ٹیسٹ کروانے کیلئے گيا تب جب میرا ایک بیٹا تھیلاسیمیا سے فوت ہو چکا تھا اور تین تھے جنکو ہو مہینے تین سے چار دفعہ خون لگتا
وہ سب تین بیٹے اور ایک بیٹی چھ مہینے ،آٹھ سال ،14 سال اور بیٹی ڈھال سال کی فوت ہو چکے ہیں ،نادرہ سلطانی نے سیمپل لیا اور ساتھ ہی
بیوی کو ایڈمٹ کر لیا میں اور باقی بچے پنڈی میں کہاں جاتے ،کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ ہم یہاں نہیں رہ سکتے ،اس نے کہا کسی صورت اجازت نہیں کل اجازت
دوں گي وہ بھی ہوائي سفر کی ورنہ بائي روڈ تین دن بعد مجھ سے بات کرنا ،تو اچآنک
برگيڈیئر نادرہ نے کہا آپ میرے پاس کیوں آئے یاسمین راشد پشاور آتی ہے
اس سے سیمپل کروا لیتے میں نےکہا اصل اتنی تکلیف کا اندازہ نہیں تھا
پھر اس نے کہا ڈاکٹر یاسمین جیسا ڈاکٹر شائيد ہی کوئی دنیا میں ہو
پھر کہا کہ لندن اور امریکا میں کورس کے بعد ایسا لباس پہنتی جیسے ابھی گندم کاٹ کر آئی ہو سیدھی سادھی دیہاتی عورت
اور قابل اتنی کہ استاد حیران رہ جاتے ،جب کورس مکمل کیا تو امریکی
محکمہ ہیلتھ نے نوکری آفر کی انکار پھر تنخواہ ڈبل کر دی پھر مراعات بڑھا دیں لیکن بولی میرے ملک کو میری زیادہ ضرورت ہے
آج 2022 ہے ڈاکٹر صاحبہ خود کینسر کی مریضہ ہیں سر کے بال جھڑ چکے
علاج سے کافی بہتر ہو چگی ہیں اللہ انہیں لمبی زندگي دے
لیکن جتنی تعریفیں سنیں ہمیشہ دل خوش ہوا ،دیکھ کر دل کو سکون ملتا ہے ڈاکٹر صاحبہ کا خاندان خاوند بیٹے بیٹیاں چونکہ پی ٹی آئی میں ہیں
انکے بھائي جنرل ریٹائر ہیں نیلہ دولہہ کی شائيد رہنے والی ہیں لیکن اس وقت لاہور میں مقیم ہیں
ایسی عظیم عورت کو بھی کل پنجاب پولیس نے پتھر مارے گاڑی کے شیشے توڑ دیئے جسکو سیلوٹ کرنا چاہيئے اسے پتھر
انسانیت شائيد مر چکی ،انسان دوست ،غریب پرور ڈاکٹر جسے پیسے کا لالچ
نہیں لیکن اللہ نے دیا بھی بہت
اللہ انہیں لمبی زندگي دے ،ان لاکھوں کروڑوں سے بہتر ہیں جو سارا دن
مسلمانوں کو کافر مشرک بنا کر جہنم میں ڈال رہے ہوتے ہیں
صابر حسین۔