Al-Mashriq Group of Media

Call Website Contact the business

Al-Mashriq Group of Media Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Mashriq Group of Media, 06, Lahore.
(5)

ایک فکری و ادبی تحریک، جو محبت، علم، فکر، اور مثبت سماجی شعور کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔
ہم شاعری، تحقیق، ادب، اور اصلاحی مواد کے ذریعے معاشرتی بیداری کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔
ہمارا مقصد نظریاتی ہم آہنگی، مکالمہ، اور باصلاحیت قلم کاروں کی سرپرستی ہے۔

ہماری ترجیحات کس قدر بدل چکی ہیں!ذرا ہماری ترجیحات پر غور کیجیے۔ کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرے تیسرے شخص کی زبان پر نانا پاٹ...
09/10/2026

ہماری ترجیحات کس قدر بدل چکی ہیں!

ذرا ہماری ترجیحات پر غور کیجیے۔ کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرے تیسرے شخص کی زبان پر نانا پاٹیکر کی وفات کی خبر تھی۔ ہر طرف تبصرے، پوسٹس اور گفتگو جاری تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں لگا کہ کسی فلمی شخصیت کا ذکر کرنا غلط ہے۔ فلم انڈسٹری بھی تفریح کا ایک ذریعہ ہے، اور انسان کو زندگی میں تفریح، خوشی اور ذہنی آسودگی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

سوال نانا پاٹیکر کے ذکر کا نہیں، سوال ہماری ترجیحات کا ہے۔

اسی روز دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سربراہ کی وفات کی خبر بھی سامنے آئی، لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا پر اس کا وہ چرچا دکھائی نہیں دیا جو ایک فلمی شخصیت کی خبر کے حصے میں آیا۔ بہت سے لوگوں، خصوصاً نوجوانوں، کو شاید اس علمی شخصیت کے انتقال کا علم بھی نہ ہو۔

ذرا سوچیے، یہ کیسی صورتِ حال ہے کہ ہمیں فلمی دنیا کی شخصیات کی زندگی، موت اور معمولات سے تو آگاہی رہتی ہے، لیکن اپنے علمی، فکری اور دینی اداروں سے وابستہ شخصیات کے بارے میں ہم لاعلم رہ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات دینی مدارس کے طلبہ تک ایسی شخصیات کے علمی مقام اور خدمات سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔

یہاں مقصد کسی کی اہمیت کم کرنا یا تفریح کو غلط قرار دینا نہیں، بلکہ اپنے اجتماعی شعور کا جائزہ لینا ہے۔ کیا ہماری دلچسپیوں میں توازن باقی ہے؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کی فکری تشکیل کرنے والے لوگ کون ہیں، ہمارے علمی اداروں کی تاریخ کیا ہے اور کن لوگوں نے اپنی زندگیاں علم و تحقیق کے لیے وقف کر دی ہیں؟

سوشل میڈیا، عالمی ذرائع ابلاغ اور تفریحی صنعت ہماری توجہ کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جس شخصیت کو یہ ذرائع نمایاں کر دیں، وہ ہماری گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے، اور جس علمی شخصیت کو وہ جگہ نہ ملے، اس کی خدمات گویا ہماری اجتماعی یادداشت سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔

لیکن اس صورتِ حال کی تمام ذمہ داری میڈیا پر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ بھی نہیں کر سکتے۔ آخر ہم خود کیا دیکھتے ہیں، کس خبر کو آگے بڑھاتے ہیں، کس شخصیت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی نئی نسل کو کن لوگوں سے متعارف کرواتے ہیں؟ یہ سوالات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔

ہمیں تفریح سے انکار نہیں کرنا، بلکہ اپنی دلچسپیوں میں توازن پیدا کرنا ہے۔ ہمیں فلمی شخصیات کے بارے میں بھی جاننا ہے، لیکن اپنے اہلِ علم، محققین، مفکرین، اساتذہ اور علمی اداروں سے وابستہ شخصیات کو بھی یاد رکھنا ہے۔

کیونکہ جو قوم اپنے فن کاروں کو تو پہچانتی ہو، مگر اپنے اہلِ علم کو بھول جائے، اسے اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور ضرور کرنا چاہیے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کس کی وفات پر افسوس کرتے ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری توجہ کن لوگوں کی طرف جاتی ہے اور کن لوگوں کو ہم خاموشی سے فراموش کر دیتے ہیں۔

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

کاپی رائیٹ © 2026. المشرق گروپ آف میڈیا






#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان

آج بدقسمتی سے صورتِ حال یہ ہے کہ مذاہب کے اندر مسالک، مسالک کے اندر مشارب، اور پھر مختلف فرقے، گروہ اور کمیونٹیز ایک دوس...
08/10/2026

آج بدقسمتی سے صورتِ حال یہ ہے کہ مذاہب کے اندر مسالک، مسالک کے اندر مشارب، اور پھر مختلف فرقے، گروہ اور کمیونٹیز ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔ ہر گروہ اپنی شناخت، اپنی تعبیر اور اپنے دائرے کو درست سمجھتا ہے، اور رفتہ رفتہ دین کی اصل روح کہیں پسِ منظر میں چلی جاتی ہے۔

لیکن ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ لوگ خدا سے دور ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں میں ایسے سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ خدا کا وجود ہے بھی یا نہیں؟ کچھ لوگ تو کھلے عام خدا کے وجود سے انکار کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں بحیثیت مسلمان، بحیثیت مذہبی انسان، ہماری سب سے بڑی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟

کیا ہماری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ فلاں سنی ہے، فلاں دیوبندی ہے، فلاں بریلوی ہے، فلاں خارجی ہے، فلاں ہمارے ساتھ بیٹھ سکتا ہے اور فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی؟

کیا ہماری ساری توانائی اس بات پر صرف ہونی چاہیے کہ کون ہمارے گروہ میں ہے اور کون ہمارے گروہ سے باہر؟

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو دیکھیں تو ہمیں یہ صورتِ حال اس انداز میں دکھائی نہیں دیتی کہ ہر شخص اپنی ایک الگ شناخت، الگ گروہ اور الگ دائرہ بنا کر دوسرے مسلمانوں کے ایمان کی پیمائش کر رہا ہو۔ پھر ہم کیسے امتی ہیں کہ ہر شخص اپنی جگہ خود کو مکمل، پکا اور سچا مومن سمجھتا ہے اور دوسرے کو مشکوک، ناقص یا گمراہ قرار دینے میں جلدی کرتا ہے؟

المیہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ہر بزرگ، ہر مقرر اور ہر مذہبی شخصیت گویا اپنی طرف سے لوگوں میں دینی سرٹیفکیٹ بانٹنے لگتی ہے۔ کوئی اپنی الگ شناخت بنانے میں مصروف ہے، کوئی اپنی خاص تعبیر کو نمایاں کرنے میں، کوئی اپنی الگ پگڑی اور ٹوپی کو ایک مخصوص علامت بنانے میں، اور کوئی اپنے حلقۂ اثر میں اپنا رعب قائم کرنے میں۔

مگر اس سب کے درمیان ایک بنیادی سوال کہیں دب گیا ہے:

کیا ہمیں واقعی خوفِ خدا ہے؟

کیا ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ ہماری اصل ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

اگر آج نوجوان مذہب سے دور ہو رہے ہیں، اگر وہ دین سے بیزار ہو رہے ہیں، اگر مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والی نئی نسل مذہب کے بارے میں سوالات اور شکوک لے کر بڑی ہو رہی ہے، تو ہمیں صرف یہ سوچنے کے بجائے کہ "وہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں؟" یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر ہم نے اسے دین سے کیا دیا ہے؟

ہم نے اسے محبت دی یا نفرت؟
ہم نے اسے خدا سے تعلق سکھایا یا صرف گروہی شناخت؟
ہم نے اسے دین کی خوبصورتی دکھائی یا اختلافات کی جنگ؟

یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں، اپنی ترجیحات درست کرنے کا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگوں کو خدا کے قریب کریں، انہیں دین کی اخلاقی اور انسانی خوبصورتی دکھائیں، ان کے سوالات سنیں، ان کے شکوک کا جواب حکمت اور محبت سے دیں اور اپنے کردار سے دین کی گواہی دیں۔

کیونکہ اگر ہماری اپنی ترجیحات یہی رہیں کہ کون کس مسلک سے ہے، کون ہمارے ساتھ بیٹھ سکتا ہے اور کون نہیں، کون صحیح ہے اور کون غلط، تو ممکن ہے ہم ایک دوسرے کو تو بہت کچھ ثابت کرتے رہیں، لیکن نئی نسل ہم سب سے یہ پوچھتی رہ جائے:

"اگر یہی دین ہے تو پھر ہمیں اس دین کی ضرورت کیوں ہے؟"

اور شاید یہی وہ سوال ہے جس پر ہمیں سب سے زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

کاپی رائیٹ © 2026. المشرق گروپ آف میڈیا






#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان

دیکھیے، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری دعوت انسانوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانے، انہیں دین سے جوڑنے اور ایک ب...
08/10/2026

دیکھیے، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری دعوت انسانوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانے، انہیں دین سے جوڑنے اور ایک بہتر زندگی کی طرف لے جانے کی دعوت تھی۔ لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے درمیان ایسے طبقات اور گروہ پیدا ہو گئے جو لوگوں کو دین سے جوڑنے کے بجائے انہیں دین سے خارج کرنے کے فتوے دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

دین ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ نماز قائم کرنا، روزے رکھنا، حج اور زکوٰۃ ادا کرنا، توحید پر قائم رہنا، اللہ کی مخلوق کی مدد کرنا، ایک دوسرے کے کام آنا، باہمی محبت و تعاون کے ساتھ رہنا، ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینا اور انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوشش کرنا۔ یہ وہ بنیادی تعلیمات ہیں جن پر انسان اپنی عملی زندگی سنوار سکتا ہے۔

لیکن ہماری ایک عجیب صورتِ حال بن گئی ہے۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے اپنے تمام اعمال دین کی تعلیمات کے مطابق مکمل ہوں۔ ہم اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے واقف ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے کے لیے بہت جلد تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں کہ تمہارا ایمان مکمل نہیں، تمہارا ایمان کمزور ہے، تم گستاخ ہو، تم منکر ہو، تم بدعتی ہو، تم مشرک ہو یا تم دین سے خارج ہو۔

سوال یہ ہے کہ کسی انسان کے ایمان کی آخری حقیقت اور اس کے دل کا حال طے کرنے کا اختیار آخر کس کے پاس ہے؟

یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ہمارا کام لوگوں کے دلوں کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ اپنے عمل کی اصلاح کرنا اور دوسروں کو خیر کی طرف بلانا ہے۔ اختلافات اپنی جگہ ہو سکتے ہیں، علمی بحث بھی ہو سکتی ہے، لیکن ہر اختلاف کو ایک دوسرے کے ایمان پر حملے میں تبدیل کر دینا دین کی خدمت نہیں۔

قرآن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا بنیادی مزاج بھی انسانوں کو اللہ کی طرف بلانا تھا، نہ کہ ہر اختلاف رکھنے والے انسان کو دائرۂ دین سے باہر قرار دینا۔

ہمیں شاید یہ سوال دوسروں سے پہلے خود سے کرنا چاہیے کہ ہم دین کی جن تعلیمات کو دوسروں کے لیے معیار بنا کر پیش کرتے ہیں، کیا ہماری اپنی زندگی ان تعلیمات کی مکمل عکاسی کرتی ہے؟

ہم نماز، روزے، حج، زکوٰۃ اور توحید کی بات کرتے ہیں، تو ساتھ ہی انسانوں کی مدد، حسنِ اخلاق، باہمی محبت، عدل، برداشت، خیر خواہی اور ایک اچھے معاشرے کی تعمیر کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

اختلافات کا آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کے پاس چھوڑ دینا شاید ہمارے لیے زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم لوگوں کے ایمان کے نگہبان بن جائیں؛ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خود اپنے ایمان، اپنے عمل اور اپنے کردار کی فکر کریں اور دوسروں کے لیے دین کو رحمت، خیر اور بھلائی کی صورت میں پیش کریں۔

بدقسمتی شاید یہی ہے کہ ہم دین کی اصل روح پر عمل کرنے سے زیادہ ایک دوسرے کے دین دار ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

کاپی رائیٹ © 2026. المشرق گروپ آف میڈیا





#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان

اگر آپ TikTok پر Gaming Content کے ذریعے کام کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہتے ہیں تو یہ کورس آپ کے لیے ہے۔ اس میں صرف یہ نہیں ...
01/10/2026

اگر آپ TikTok پر Gaming Content کے ذریعے کام کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہتے ہیں تو یہ کورس آپ کے لیے ہے۔ اس میں صرف یہ نہیں بتایا جائے گا کہ TikTok پر ویڈیو کیسے اپلوڈ کرنی ہے، بلکہ TikTok Gaming Incentive Program (GIP) کے پورے طریقۂ کار کو ابتدا سے آخر تک آسان انداز میں سمجھایا جائے گا۔

کورس میں آپ سیکھیں گے کہ GIP کیا ہے، اس میں کام کیسے شروع کیا جاتا ہے، ضروری Account Setup کیسے کیا جاتا ہے، Gaming Videos کیسے تیار اور Upload کی جاتی ہیں، GIP Minis کیا ہیں، Content اور Views پر کیسے کام کیا جاتا ہے اور Program کے Rewards سے متعلق بنیادی طریقۂ کار کیا ہے۔

اس کے ساتھ Account Warm-up، Content Strategies، Appeals، عام مسائل کے حل، Multiple Accounts اور Scaling جیسے اہم موضوعات بھی عملی انداز میں کور کیے جائیں گے، تاکہ آپ کو صرف معلومات نہ ملیں بلکہ پورا ورک فلو سمجھ آ سکے۔

کورس کا مقصد یہ ہے کہ ایک نئے شخص کو بھی A to Z رہنمائی ملے اور وہ Account Setup سے لے کر Gaming Content، GIP/GIP Minis، Rewards اور آگے کام کو Scale کرنے تک ہر مرحلے کو سمجھ سکے۔

کورس یکم اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا۔ فیس صرف 1,500 روپے ہے۔ کورس مکمل کرنے والے طلبہ کو سرٹیفکیٹ دیا جائے گا جبکہ کورس کے بعد لائف ٹائم مینٹورشپ بھی شامل ہوگی۔

اگر آپ TikTok Gaming کے اس طریقۂ کار کو باقاعدہ اور مرحلہ وار سیکھنا چاہتے ہیں تو داخلے اور مزید معلومات کے لیے WhatsApp پر رابطہ کریں:

03167102994
03157479591

نوٹ: TikTok کے Programs، Requirements، Rewards اور دستیابی وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے کورس میں موجودہ دستیاب طریقۂ کار کے مطابق رہنمائی دی جائے گی۔

اگر آپ TikTok پر Gaming Content کے ذریعے کام کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہتے ہیں تو یہ کورس آپ کے لیے ہے۔ اس میں صرف یہ نہیں ...
22/09/2026

اگر آپ TikTok پر Gaming Content کے ذریعے کام کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہتے ہیں تو یہ کورس آپ کے لیے ہے۔ اس میں صرف یہ نہیں بتایا جائے گا کہ TikTok پر ویڈیو کیسے اپلوڈ کرنی ہے، بلکہ TikTok Gaming Incentive Program (GIP) کے پورے طریقۂ کار کو ابتدا سے آخر تک آسان انداز میں سمجھایا جائے گا۔

کورس میں آپ سیکھیں گے کہ GIP کیا ہے، اس میں کام کیسے شروع کیا جاتا ہے، ضروری Account Setup کیسے کیا جاتا ہے، Gaming Videos کیسے تیار اور Upload کی جاتی ہیں، GIP Minis کیا ہیں، Content اور Views پر کیسے کام کیا جاتا ہے اور Program کے Rewards سے متعلق بنیادی طریقۂ کار کیا ہے۔

اس کے ساتھ Account Warm-up، Content Strategies، Appeals، عام مسائل کے حل، Multiple Accounts اور Scaling جیسے اہم موضوعات بھی عملی انداز میں کور کیے جائیں گے، تاکہ آپ کو صرف معلومات نہ ملیں بلکہ پورا ورک فلو سمجھ آ سکے۔

کورس کا مقصد یہ ہے کہ ایک نئے شخص کو بھی A to Z رہنمائی ملے اور وہ Account Setup سے لے کر Gaming Content، GIP/GIP Minis، Rewards اور آگے کام کو Scale کرنے تک ہر مرحلے کو سمجھ سکے۔

کورس یکم اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا۔ فیس صرف 1,500 روپے ہے۔ کورس مکمل کرنے والے طلبہ کو سرٹیفکیٹ دیا جائے گا جبکہ کورس کے بعد لائف ٹائم مینٹورشپ بھی شامل ہوگی۔

اگر آپ TikTok Gaming کے اس طریقۂ کار کو باقاعدہ اور مرحلہ وار سیکھنا چاہتے ہیں تو داخلے اور مزید معلومات کے لیے WhatsApp پر رابطہ کریں:

03167102994
03157479591

نوٹ: TikTok کے Programs، Requirements، Rewards اور دستیابی وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے کورس میں موجودہ دستیاب طریقۂ کار کے مطابق رہنمائی دی جائے گی۔

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

کاپی رائیٹ © 2026. المشرق گروپ آف میڈیا






#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان

کیا TikTok آپ کے لیے صرف وقت گزارنے کی جگہ ہے؟روزانہ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ ویڈیوز دیکھتے ہیں، دوسروں کا...
11/09/2026

کیا TikTok آپ کے لیے صرف وقت گزارنے کی جگہ ہے؟

روزانہ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ ویڈیوز دیکھتے ہیں، دوسروں کا کانٹینٹ دیکھتے ہیں، گیمز کھیلتے ہیں اور پھر اکثر یہی سوچتے رہتے ہیں کہ انٹرنیٹ سے کمائی آخر ہوتی کیسے ہے۔

لیکن شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس مواقع نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ جن پلیٹ فارمز کو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں، انہیں صحیح طریقے سے سیکھ کر کس طرح بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اور TikTok صرف ویڈیوز دیکھنے اور وقت گزارنے کا پلیٹ فارم نہیں۔ اگر آپ کو کانٹینٹ بنانا آتا ہو، آپ کو یہ سمجھ ہو کہ لوگوں کی توجہ کیسے حاصل کرنی ہے اور آپ پلیٹ فارم کے مختلف فیچرز اور مواقع کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا جانتے ہوں تو یہی چیز آپ کے لیے ایک نئی مہارت بن سکتی ہے۔

اسی مقصد کے لیے المشرق گروپ آف میڈیا ایک مفت 3 روزہ TikTok ورکشاپ کا اہتمام کر رہا ہے۔

یہ ورکشاپ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہو سکتی ہے جو TikTok Gaming Incentive Program کو سمجھنا چاہتے ہیں، کانٹینٹ بنانے کے طریقے سیکھنا چاہتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے کس طرح کام کیا جا سکتا ہے۔

ورکشاپ کے دوران TikTok Gaming، کانٹینٹ کری ایشن سے متعلق مفید طریقوں، مختلف حکمتِ عملیوں اور عملی رہنمائی پر بات کی جائے گی۔ صرف باتیں ہی نہیں ہوں گی بلکہ کوشش یہ ہوگی کہ شرکاء کو عملی طور پر بھی رہنمائی دی جائے، تاکہ وہ سیکھنے کے بعد چیزوں کو خود آزما سکیں۔

اگر آپ TikTok استعمال کرتے ہیں، گیمز میں دلچسپی رکھتے ہیں، کانٹینٹ کری ایشن سیکھنا چاہتے ہیں یا بس یہ جاننا چاہتے ہیں کہ لوگ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کو کس طرح ایک مہارت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، تو یہ ورکشاپ آپ کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔

اور سب سے اچھی بات؟ یہ 3 روزہ ورکشاپ بالکل مفت ہے۔

آپ کو صرف سیکھنے کا ارادہ اور کچھ وقت نکالنے کی ضرورت ہے۔

ورکشاپ کا آغاز 20 ستمبر 2026 سے ہوگا اور اس میں رہنمائی محترم عمر شکیل کریں گے۔

نشستیں محدود رکھی گئی ہیں، اس لیے اگر آپ واقعی اس ورکشاپ کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو رجسٹریشن میں دیر نہ کریں۔

رجسٹریشن کے لیے ابھی WhatsApp پر رابطہ کریں:

03167102994
03157479591

المشرق گروپ آف میڈیا

یومِ دفاعِ پاکستان — 6 ستمبرالمشرق گروپ آف میڈیا کی جانب سے پوری قوم کو یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر خراجِ تحسین پیش کر...
06/09/2026

یومِ دفاعِ پاکستان — 6 ستمبر

المشرق گروپ آف میڈیا کی جانب سے پوری قوم کو یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ 6 ستمبر ہمیں اپنے بہادر افواجِ پاکستان کے جوانوں کی عظیم قربانیوں، بے مثال جرات اور وطن سے وفاداری کی یاد دلاتا ہے۔

آج کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قومی اتحاد، حب الوطنی اور قربانی کے جذبے سے ہر مشکل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ آئیے ہم اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے عہد کریں کہ پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت اور خلوص کے ساتھ ادا کریں گے۔

پاکستان زندہ باد — پاک افواج پائندہ باد

ٹیم المشرق گروپ آف میڈیا

محفلِ نعت، محبتِ رسول ﷺ سے منور ایک خوبصورت شامالمشرق گروپ آف میڈیا کے زیرِ اہتمام یومِ ولادتِ نبیِ آخر حضرت محمد مصطفیٰ...
30/08/2026

محفلِ نعت، محبتِ رسول ﷺ سے منور ایک خوبصورت شام

المشرق گروپ آف میڈیا کے زیرِ اہتمام یومِ ولادتِ نبیِ آخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی محفلِ نعت نہایت خوبصورت، پُروقار اور روح پرور رہی۔

محفل میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے ذریعے آقائے دو جہاں ﷺ سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا گیا۔ نعت خواں حضرات نے اپنی خوبصورت آوازوں میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول پیش کیے، جبکہ شرکائے محفل نے بھی بھرپور محبت اور عقیدت کے ساتھ شرکت کی۔

یہ بابرکت محفل عشقِ رسول ﷺ، ادبِ رسالت اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے جذبات کو اجاگر کرنے کا خوبصورت ذریعہ بنی۔

المشرق گروپ آف میڈیا کی جانب سے اس روحانی اور بابرکت پروگرام کے انعقاد پر تمام منتظمین، بالخصوص آمنہ قریشی ، Liza Chaudhry اور نعت خواں حضرات اور شرکائے محفل مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس محفل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمیں سیرتِ طیبہ ﷺ پر عمل کرتے ہوئے محبتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔

ٹیم المشرق گروپ آف میڈیا

Address

06
Lahore
53700

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 16:00

Telephone

+923157037911

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Mashriq Group of Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al-Mashriq Group of Media:

Shortcuts

Share