Al-Mashriq Group of Media

Al-Mashriq Group of Media Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Mashriq Group of Media, 06, Lahore.
(9)

ایک فکری و ادبی تحریک، جو محبت، علم، فکر، اور مثبت سماجی شعور کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔
ہم شاعری، تحقیق، ادب، اور اصلاحی مواد کے ذریعے معاشرتی بیداری کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔
ہمارا مقصد نظریاتی ہم آہنگی، مکالمہ، اور باصلاحیت قلم کاروں کی سرپرستی ہے۔

کسی بھی معاشرے میں ایسے افراد کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے جو مشاہدے کی گہرائی، اظہار کی صلاحیت اور سیکھنے کے جذبے کو ی...
11/06/2026

کسی بھی معاشرے میں ایسے افراد کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے جو مشاہدے کی گہرائی، اظہار کی صلاحیت اور سیکھنے کے جذبے کو یکجا کر کے اپنی شناخت بناتے ہیں۔ مہتاب نصیر اعوان انہی باصلاحیت نوجوانوں میں سے ایک ہیں جو صحافت اور تخلیقی سرگرمیوں کے میدان میں اپنی مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

مہتاب نصیر اعوان کا تعلق تحصیل و ضلع چکوال، پنجاب سے ہے۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ (آئی سی ایس) کی تعلیم حاصل کی اور گزشتہ تین برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ فیلڈ رپورٹنگ ان کی اہم مصروفیات میں شامل ہے، جہاں وہ زمینی حقائق کو عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری احسن انداز میں نبھا رہے ہیں۔

ان کی المشرق گروپ آف میڈیا سے وابستگی گزشتہ سال فیس بک کے ذریعے ہوئی، جس کے بعد وہ ادارے کے مختلف تعلیمی اور ادبی پلیٹ فارمز کا حصہ بنتے چلے گئے۔ ادارے سے انہوں نے گرافکس ڈیزائننگ کا کورس مکمل کیا، جس نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج گرافکس ڈیزائننگ ان کی نمایاں مہارتوں میں شمار ہوتی ہے۔

تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مہتاب نصیر اعوان نے ادارے کی مختلف ادبی و فکری سرگرمیوں، خصوصاً قول نگاری اور کہانی نویسی میں بھی بھرپور شرکت کی۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسی سرگرمیاں انسان کی تخلیقی سوچ کو جِلا بخشتی ہیں اور اظہارِ خیال کے نئے در وا کرتی ہیں۔

صحافت کے میدان میں ان کی خدمات کو مختلف اداروں اور نیوز چینلز نے بھی سراہا ہے۔ اپنی بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی کی بدولت وہ متعدد حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹس حاصل کر چکے ہیں، جو ان کی محنت، لگن اور ذمہ داری کے احساس کا عملی اعتراف ہیں۔

مہتاب نصیر اعوان کے مطابق المشرق گروپ آف میڈیا کی سب سے نمایاں خوبی اس سے وابستہ افراد کا خلوص، مثبت رویہ اور ہر مرحلے پر رہنمائی کا جذبہ ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ادارہ اپنے نام کی طرح مشرق سے طلوع ہونے والی اس روشنی کی مانند ہے جو نوجوان نسل کو علم، ادب اور مہارت کے نئے راستے دکھا رہی ہے۔

نئے آنے والے دوستوں کے لیے ان کا پیغام نہایت دل نشین ہے کہ جس اخلاص اور محبت کے ساتھ ادارہ اپنے رفقا کی تربیت اور رہنمائی کرتا ہے، اسی خلوص کے ساتھ ادارے کا ساتھ دیا جائے۔ سیکھنے کا سفر تبھی کامیاب ہوتا ہے جب استاد اور طالبِ علم دونوں ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی کا جذبہ رکھتے ہوں۔

المشرق گروپ آف میڈیا، مہتاب نصیر اعوان کی صحافتی خدمات، تخلیقی صلاحیتوں اور سیکھنے کے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہے۔


بعض لوگ علم کو صرف حاصل نہیں کرتے بلکہ اسے اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ محمد شیراز بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہ...
08/06/2026

بعض لوگ علم کو صرف حاصل نہیں کرتے بلکہ اسے اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ محمد شیراز بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علمی سفر کو مسلسل سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھایا۔

محمد شیراز کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب کی دلکش وادی، وادیِ سون سکیسر سے ہے۔ انہوں نے 2023ء میں بی ایس اردو مکمل کیا اور گزشتہ تین برسوں سے شعبۂ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اردو زبان و ادب ان کا پسندیدہ میدان ہے اور اسی شعبے میں وہ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارنے میں مصروف ہیں۔

المشرق گروپ آف میڈیا سے ان کی وابستگی ایک مضمون نگاری کورس کے اشتہار سے ہوئی، جسے محترمہ سیرت الزہرا (زہرا عزمی) نے ان تک پہنچایا۔ یہ تعلق محض ایک کورس تک محدود نہ رہا بلکہ سیکھنے کے ایک مسلسل سفر میں تبدیل ہوگیا۔ ادارے سے وابستہ رہتے ہوئے انہوں نے فنِ مضمون نگاری، فنِ تحریر، فنِ رموز و اوقاف اور ویڈیو ایڈیٹنگ کے کورسز مکمل کیے، جبکہ اس وقت فیس بک مونیٹائزیشن کورس سے بھی استفادہ کر رہے ہیں۔

محمد شیراز کے مطابق المشرق گروپ آف میڈیا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں سیکھنے کا ماحول نہایت آسان، دوستانہ اور عملی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کم فیس میں معیاری تربیت اور مہارتوں کی فراہمی اس ادارے کا نمایاں وصف ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ادارے کے مختلف کورسز نے کئی افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور انہیں عملی زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا ہے۔

تعلیمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ انہوں نے ادارے کی سرگرمی "اقوال" میں بھی شرکت کی اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ المشرق گروپ آف میڈیا نے نہ صرف انہیں نئی مہارتیں سکھائیں بلکہ ان کی فکری اور علمی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

نئے آنے والے طلبہ اور احباب کے لیے ان کا پیغام نہایت خوبصورت ہے کہ سیکھنے کے مواقع کو ضائع نہ کیا جائے۔ انسان جب اپنی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کرتا ہے تو دراصل اپنی کامیابی کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ علم، ہنر اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ ہی انسان کو آگے بڑھاتا ہے۔

المشرق گروپ آف میڈیا، اس کی انتظامیہ اور پوری ٹیم کے لیے محمد شیراز نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ یہ ادارہ مزید ترقی کرے، علم و ہنر کی روشنی پھیلائے اور مزید لوگوں کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا رہے۔

المشرق گروپ آف میڈیا کو محمد شیراز جیسے سنجیدہ، علم دوست اور سیکھنے کے جذبے سے سرشار رفقا پر فخر ہے۔


درست جواب کا انتخاب کریں اور کومنٹ میں جواب دیں
06/06/2026

درست جواب کا انتخاب کریں اور کومنٹ میں جواب دیں

بہتریں شعر ہو، سنتے ہیں مکرر، اکثرعشق کی بات ہو، ہم بارِ دگر کہتے ہیں ابوبکر المشرقی۔۔                          #ابوبکرا...
02/06/2026

بہتریں شعر ہو، سنتے ہیں مکرر، اکثر
عشق کی بات ہو، ہم بارِ دگر کہتے ہیں

ابوبکر المشرقی
۔
۔






#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان

جدید فیمنزم گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کی سب سے مؤثر سماجی تحریکوں میں سے ایک رہا ہے۔اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فیمنزم ن...
31/05/2026

جدید فیمنزم گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کی سب سے مؤثر سماجی تحریکوں میں سے ایک رہا ہے۔
اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فیمنزم نے عورتوں کو تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی، قانونی حقوق اور ذاتی فیصلوں میں زیادہ آزادی فراہم کی ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا زیادہ آزادی اور زیادہ مواقع لازماً زیادہ خوشی اور اطمینان بھی پیدا کرتے ہیں؟
آج دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ معاشروں میں عورتوں کو تاریخ کے کسی بھی دور سے زیادہ قانونی حقوق اور معاشی مواقع حاصل ہیں۔ اس کے باوجود تنہائی، ذہنی دباؤ، خاندانی عدم استحکام اور تعلقات کے مسائل پر بھی مسلسل بحث ہو رہی ہے۔

یہاں چند سوالات غور طلب ہیں
- کیا کیریئر اور خاندانی زندگی کے درمیان توازن قائم کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے؟
- کیا معاشرہ عورت سے بیک وقت بہت زیادہ توقعات وابستہ کر چکا ہے؟
- کیا مادری کردار اور خاندانی زندگی کو بعض حلقوں میں کم اہم سمجھا جانے لگا ہے؟
- اور کیا جدید آزادی نے کچھ نئے مسائل بھی پیدا کیے ہیں جن پر کھل کر گفتگو نہیں ہوتی؟

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں بہت سی خواتین کو تعلیم، ملازمت، جائیداد اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ اس لیے ہر تنقید کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا مسئلہ فیمنزم ہے، یا فیمنزم کی بعض جدید تشریحات؟

شاید اصل بحث "عورت بمقابلہ مرد" کی نہیں، بلکہ اس سوال کی ہے کہ عورت کی حقیقی کامیابی، خوشی اور وقار کا معیار کیا ہونا چاہیے؟
کیا وہ صرف معاشی خودمختاری ہے؟ کیا وہ صرف خاندان ہے؟ یا پھر ان دونوں کے درمیان کوئی متوازن راستہ موجود ہے؟

کیا جدید فیمنزم عورت کو حقیقی خوشی، اطمینان اور وقار فراہم کر رہا ہے؟
یا ہمیں عورت کے کردار، خاندان اور کامیابی کے تصور پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے؟

اختلافِ رائے کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے ضرور دیجیے۔

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی






#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان

کیا خدا اور مذہب کے بغیر معاشرہ واقعی قائم رہ سکتا ہے؟آج ایک عام دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ "اگر مذہب کو ریاست اور معاشرے س...
30/05/2026

کیا خدا اور مذہب کے بغیر معاشرہ واقعی قائم رہ سکتا ہے؟

آج ایک عام دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ "اگر مذہب کو ریاست اور معاشرے سے الگ کر دیا جائے تو معاشرہ زیادہ پرامن، منصفانہ اور ترقی یافتہ ہو جاتا ہے۔"
یہ بات بظاہر دلکش لگتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اخلاق، انصاف اور امن واقعی صرف قانون اور انسانی معاہدے پر قائم رہ سکتے ہیں؟ اگر خدا اور آخرت کا تصور نہ ہو، تو انسان کے پاس اکثر صرف دنیاوی فائدہ بچتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طاقتور اپنے اختیار کو کیوں محدود کرے گا؟ اور کمزور کا حق کیوں محفوظ رہے گا؟
قانون یقیناً ایک اہم نظام ہے، لیکن قانون خود بھی انسان ہی بناتے ہیں اور انسان ہمیشہ مفادات اور طاقت کے اثر سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتے۔

تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بیسویں صدی میں دنیا کے سب سے بڑے انسانی المیے زیادہ تر سیکولر ریاستوں میں پیش آئے، جہاں مذہبی اخلاقی ڈھانچہ کمزور یا ختم کر دیا گیا تھا۔ یہاں ریاستی طاقت نے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔

اسی طرح جدید دنیا کے کئی ترقی یافتہ معاشروں میں ایک اور مسئلہ واضح طور پر سامنے آیا ہے کہ مادی ترقی کے باوجود ذہنی تنہائی، ڈپریشن، خاندانی کمزوری اور خودکشی جیسے مسائل میں اضافہ۔

یہ سوال اہم ہے کہ اگر انسان صرف مادی وجود ہے، اور زندگی کا کوئی آخری حساب یا جواب دہی نہیں، تو پھر ایثار، قربانی اور انصاف کی اخلاقی بنیاد کیا ہوگی؟

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ "انسانی حقوق، انسانیت اور قانون کافی ہیں۔"
لیکن پھر سوال یہ ہے کہ انسانیت کا معیار کون طے کرے گا؟ اور اگر کل معاشرہ کسی اور "انسانیت" کو درست سمجھ لے تو اسے غلط کیسے کہا جائے گا؟
یہ بحث صرف مذہب کے حق یا مخالفت کی نہیں، بلکہ اس بنیادی سوال کی ہے کہ اخلاقیات کی آخری بنیاد کیا ہے؟ طاقت، اتفاق، قانون یا کوئی اعلیٰ اصول؟

کیا بغیر خدا اور مذہب کے کوئی معاشرہ طویل مدت تک انصاف، امن اور اخلاقی توازن برقرار رکھ سکتا ہے؟
اگر ہاں، تو اس کی مضبوط بنیاد کیا ہوگی؟ اور اگر نہیں، تو اخلاقی نظام کس چیز پر قائم ہوگا؟
یہ سوال دلیل کے ساتھ سوچنے کا ہے، جذبات کا نہیں۔

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان




فکری انتشار کے اس دور میں جہاں الحاد، لبرل ازم اور مختلف شکوک و شبہات نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں، وہاں صرف جذ...
30/05/2026

فکری انتشار کے اس دور میں جہاں الحاد، لبرل ازم اور مختلف شکوک و شبہات نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں، وہاں صرف جذباتی ردِ عمل کافی نہیں بلکہ مضبوط علمی بنیاد، کھلا مکالمہ اور مدلل گفتگو کی ضرورت ہے۔

اسی مقصد کے تحت المشرق گروپ آف میڈیا ایک بار پھر اپنا ایڈوانس لیول ردِّ الحاد کورس پیش کر رہا ہے۔ الحمدللہ یہ کورس ہم پہلے بھی کامیابی کے ساتھ کروا چکے ہیں اور اس مرتبہ بھی کوشش ہے کہ شرکاء کو ایسے علمی اور فکری اوزار فراہم کیے جائیں جن کی مدد سے وہ جدید فکری چیلنجز کو سمجھ سکیں اور ان کا مدلل جواب دے سکیں۔

اس کورس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سوال پوچھنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ آپ کے ذہن میں دین، خدا کے وجود، اخلاقیات، مقصدِ حیات، سائنس یا کسی بھی فکری مسئلے سے متعلق جو سوالات موجود ہیں، انہیں کھل کر پیش کیا جا سکے گا اور ان پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ مقصد کسی پر رائے مسلط کرنا نہیں بلکہ علمی انداز میں حقائق کو سمجھنا اور سمجھانا ہے۔

یہ کورس مکمل طور پر فری ہے۔ لہٰذا خود بھی تشریف لائیں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کو بھی ساتھ لائیں، اور خاص طور پر ایسے افراد تک یہ دعوت ضرور پہنچائیں جو فکری الجھنوں، شکوک یا الحادی نظریات سے متاثر ہیں۔ ممکن ہے ایک سنجیدہ گفتگو، ایک مضبوط دلیل یا ایک کھلا مکالمہ کسی کے لیے ہدایت اور اطمینانِ قلب کا ذریعہ بن جائے۔

آپ سب کو شرکت کی دعوت ہے۔

داخلہ اور مزید معلومات کے لیے وٹس ایپ میسج کریں
03167102994/03157479591

ٹیم المشرق گروپ آف میڈیا


کیا خدا کے بغیر زندگی کا کوئی حقیقی مقصد ہو سکتا ہے؟اگر اللہ نہیں ہے، تو پھر ہم اس دنیا میں کیوں ہیں؟کیا زندگی صرف چند س...
29/05/2026

کیا خدا کے بغیر زندگی کا کوئی حقیقی مقصد ہو سکتا ہے؟
اگر اللہ نہیں ہے، تو پھر ہم اس دنیا میں کیوں ہیں؟
کیا زندگی صرف چند سال جینے، کچھ خواہشیں پوری کرنے، تھوڑا لطف اٹھانے اور پھر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانے کا نام ہے؟

ملحدانہ فکر اکثر یہ کہتی ہے: "زندگی کا مقصد خود بنا لو۔ جو چیز تمہیں خوشی دے، وہی تمہارا مقصد ہے۔"
لیکن یہاں ایک گہرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقصد ہم خود بناتے ہیں،
تو پھر کوئی شخص ظلم، لالچ یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کو بھی اپنا مقصد بنا سکتا ہے۔ پھر صحیح اور غلط کا معیار کیا ہوگا؟
اگر زندگی کا کوئی آخری مطلب نہیں،
تو پھر انسان آخرکار اندر سے خالی کیوں محسوس کرتا ہے؟

آج دنیا میں سہولتیں پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر سکون پہلے سے کم ہے۔ترقی یافتہ اور سیکولر معاشروں میں بھی ڈپریشن، تنہائی، خودکشی اور بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ لوگوں کے پاس آزادی ہے، پیسہ ہے، تفریح ہے…پھر بھی دل مطمئن نہیں۔
کیوں؟
کیونکہ انسان صرف جسم نہیں، روح بھی ہے۔
اور روح صرف مادّی چیزوں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
مشہور فلسفی Albert Camus نے زندگی کو “absurd” یعنی بے معنی قرار دیا۔ بہت سے ملحد مفکرین نے مانا کہ خدا کے بغیر کائنات میں کوئی حتمی مقصد نظر نہیں آتا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر موت کے بعد سب ختم ہو جانا ہے، تو پھر
- قربانی کیوں دیں؟
- انصاف کے لیے تکلیف کیوں برداشت کریں؟
- مظلوم کی مدد کیوں کریں؟
- سچ پر قائم کیوں رہیں؟
آخرکار اگر سب مٹ جانا ہے، تو پھر معنی کہاں سے آئے گا؟

اسلام انسان کو یہ نہیں کہتا کہ دنیا چھوڑ دو، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ زندگی ایک مقصد کے ساتھ دی گئی ہے۔
ہم صرف کھانے، سونے اور خواہشات پوری کرنے کے لیے پیدا نہیں کیے گئے، بلکہ اپنے رب کو پہچاننے، حق کو اختیار کرنے اور ایک بڑی حقیقت کی طرف سفر کرنے کے لیے آئے ہیں۔
اسی لیے انسان کے دل میں ہمیشہ یہ سوال زندہ رہتا ہے: "میں یہاں کیوں ہوں؟"

سوال یہ ہے کہ کیا خدا کے بغیر زندگی کا کوئی مستقل، حقیقی اور آفاقی مقصد ہو سکتا ہے؟
اگر ہاں، تو وہ مقصد کیا ہے؟
اور موت کے بعد اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

مہذب انداز میں گفتگو کریں۔ سوچیں، سوال کریں، جواب دیں۔

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان




کیا خدا کے بغیر اخلاقیات کی کوئی مضبوط بنیاد ممکن ہے؟اگر خدا موجود نہیں، تو پھر "اچھائی" اور "برائی" کا حتمی معیار کہاں ...
28/05/2026

کیا خدا کے بغیر اخلاقیات کی کوئی مضبوط بنیاد ممکن ہے؟

اگر خدا موجود نہیں، تو پھر "اچھائی" اور "برائی" کا حتمی معیار کہاں سے آئے گا؟

ملحدانہ فکر عموماً یہ کہتی ہے کہ اخلاقیات انسان خود بناتا ہے — ہمدردی، انسانی فلاح، سماجی معاہدے اور اجتماعی مفاد کی بنیاد پر۔
لیکن اصل سوال یہ ہے:

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ "مجھے صرف اپنی خواہش، اپنی طاقت اور اپنا فائدہ عزیز ہے" تو اسے غلط ثابت کس بنیاد پر کیا جائے گا؟

اگر اخلاق صرف انسانی رائے ہے، تو پھر ہر شخص کو اپنا اخلاق بنانے کا حق ہوگا۔
اور اگر ہر شخص کا اخلاق الگ ہو سکتا ہے، تو پھر ظلم، دھوکہ، استحصال اور قتل کو "غلط" کہنے کا مطلق معیار کیا بچے گا؟

تاریخ ہمیں یہ بھی دکھاتی ہے کہ جب اخلاق کو خدا سے کاٹ دیا جائے تو طاقت اکثر معیار بن جاتی ہے۔
سٹالن، ماؤ اور پول پوٹ جیسے مادی نظریات رکھنے والے حکمرانوں نے کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، مگر اپنے نظریے کے مطابق وہ خود کو "درست" سمجھتے رہے۔

اسی طرح آج جو چیزیں "اخلاقی آزادی" کہلا رہی ہیں، چند دہائیاں پہلے انہی کو اخلاقی زوال سمجھا جاتا تھا۔
اگر اخلاق مسلسل بدلتا رہے، تو پھر سچ کیا ہے؟
اور غلط کیا ہے؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اخلاق ارتقاء (Evolution) کا نتیجہ ہے۔
مگر ارتقاء تو صرف بقا کی بات کرتا ہے، اخلاق کی نہیں۔
اگر طاقتور کمزور کو ختم کر دے اور خود بچ جائے، تو ارتقائی منطق میں وہ کامیاب سمجھا جائے گا۔

مشہور مفکر C.S. Lewis نے لکھا تھا "انسان کے اندر موجود اخلاقی احساس اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کوئی اخلاقی قانون دینے والا موجود ہے۔"

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر خدا نہ ہو، تو کیا اخلاق صرف جذبات، مفادات اور طاقت کا دوسرا نام نہیں بن جاتا؟

آپ کیا سوچتے ہیں؟

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان




Address

06
Lahore
53700

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 16:00

Telephone

+923157037911

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Mashriq Group of Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al-Mashriq Group of Media:

Share