09/10/2026
ہماری ترجیحات کس قدر بدل چکی ہیں!
ذرا ہماری ترجیحات پر غور کیجیے۔ کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرے تیسرے شخص کی زبان پر نانا پاٹیکر کی وفات کی خبر تھی۔ ہر طرف تبصرے، پوسٹس اور گفتگو جاری تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں لگا کہ کسی فلمی شخصیت کا ذکر کرنا غلط ہے۔ فلم انڈسٹری بھی تفریح کا ایک ذریعہ ہے، اور انسان کو زندگی میں تفریح، خوشی اور ذہنی آسودگی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
سوال نانا پاٹیکر کے ذکر کا نہیں، سوال ہماری ترجیحات کا ہے۔
اسی روز دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سربراہ کی وفات کی خبر بھی سامنے آئی، لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا پر اس کا وہ چرچا دکھائی نہیں دیا جو ایک فلمی شخصیت کی خبر کے حصے میں آیا۔ بہت سے لوگوں، خصوصاً نوجوانوں، کو شاید اس علمی شخصیت کے انتقال کا علم بھی نہ ہو۔
ذرا سوچیے، یہ کیسی صورتِ حال ہے کہ ہمیں فلمی دنیا کی شخصیات کی زندگی، موت اور معمولات سے تو آگاہی رہتی ہے، لیکن اپنے علمی، فکری اور دینی اداروں سے وابستہ شخصیات کے بارے میں ہم لاعلم رہ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات دینی مدارس کے طلبہ تک ایسی شخصیات کے علمی مقام اور خدمات سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔
یہاں مقصد کسی کی اہمیت کم کرنا یا تفریح کو غلط قرار دینا نہیں، بلکہ اپنے اجتماعی شعور کا جائزہ لینا ہے۔ کیا ہماری دلچسپیوں میں توازن باقی ہے؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کی فکری تشکیل کرنے والے لوگ کون ہیں، ہمارے علمی اداروں کی تاریخ کیا ہے اور کن لوگوں نے اپنی زندگیاں علم و تحقیق کے لیے وقف کر دی ہیں؟
سوشل میڈیا، عالمی ذرائع ابلاغ اور تفریحی صنعت ہماری توجہ کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جس شخصیت کو یہ ذرائع نمایاں کر دیں، وہ ہماری گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے، اور جس علمی شخصیت کو وہ جگہ نہ ملے، اس کی خدمات گویا ہماری اجتماعی یادداشت سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔
لیکن اس صورتِ حال کی تمام ذمہ داری میڈیا پر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ بھی نہیں کر سکتے۔ آخر ہم خود کیا دیکھتے ہیں، کس خبر کو آگے بڑھاتے ہیں، کس شخصیت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی نئی نسل کو کن لوگوں سے متعارف کرواتے ہیں؟ یہ سوالات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
ہمیں تفریح سے انکار نہیں کرنا، بلکہ اپنی دلچسپیوں میں توازن پیدا کرنا ہے۔ ہمیں فلمی شخصیات کے بارے میں بھی جاننا ہے، لیکن اپنے اہلِ علم، محققین، مفکرین، اساتذہ اور علمی اداروں سے وابستہ شخصیات کو بھی یاد رکھنا ہے۔
کیونکہ جو قوم اپنے فن کاروں کو تو پہچانتی ہو، مگر اپنے اہلِ علم کو بھول جائے، اسے اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور ضرور کرنا چاہیے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کس کی وفات پر افسوس کرتے ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری توجہ کن لوگوں کی طرف جاتی ہے اور کن لوگوں کو ہم خاموشی سے فراموش کر دیتے ہیں۔
والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی
کاپی رائیٹ © 2026. المشرق گروپ آف میڈیا
#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان